اگر کرائے کا جنریٹر شفٹ، رات یا پورے ہفتے چلانا آپ کی ذمہ داری ہے تو یاد رکھیں کہ سیٹ رکا تو پوری سائٹ رک جاتی ہے۔ یہاں ڈیٹا شیٹ سے چلنے کا وقت نکالنے، فیول رکھنے کی جگہ چننے، فیولنگ کا شیڈول بنانے اور فیول لاگ رکھنے کا طریقہ ملے گا۔ بات ڈیزل جنریٹر کی ہے، جو سائٹس پر عام ہے؛ جنریٹر کا سائز چننا اس گائیڈ کا موضوع نہیں۔
جنریٹر ایک ٹینک پر کتنی دیر چلے گا؟
حساب میں دو چیزیں چاہییں اور ایک تقسیم:
- ٹینک کی قابلِ استعمال مقدار نکالیں۔ یہ پورے ٹینک سے کم ہوتی ہے، کیونکہ ریزرو الگ رکھنا ہے۔
- اپنے اصل لوڈ پر سیٹ کی فی گھنٹہ ڈیزل کھپت معلوم کریں۔
- پہلی مقدار کو دوسری سے تقسیم کریں۔
چلنے کا وقت (گھنٹے) ≈ قابلِ استعمال ٹینک ÷ اپنے لوڈ پر فی گھنٹہ کھپت۔
ایک فرضی مثال لیں۔ یہ اعداد صرف سمجھانے کے لیے ہیں، کسی حقیقی جنریٹر کا ڈیٹا نہیں۔ فرض کریں آپ کے لوڈ پر ڈیٹا شیٹ 25 لیٹر فی گھنٹہ بتاتی ہے اور ٹینک 1,000 لیٹر کا ہے۔ آپ ٹینک کا ایک چوتھائی ریزرو رکھتے ہیں، یعنی 750 لیٹر قابلِ استعمال ہیں۔ اس طرح 750 ÷ 25 = 30 گھنٹے بنتے ہیں۔
اگر سائٹ پر روزانہ ایک 10 گھنٹے کی شفٹ ہے تو یہ ٹینک تقریباً تین شفٹیں نکال دے گا۔ سیٹ دن رات چلے تو 30 گھنٹے ایک دن سے ذرا ہی اوپر ہیں، اس لیے روزانہ ایک بار فیولنگ رکھیں۔ یہی طریقہ اپنے اعداد پر دہرائیں۔
احتیاط. ٹینک کو خالی ہونے تک چلانے کا منصوبہ نہ بنائیں۔ ٹینک کی تہہ میں تلچھٹ اور پانی جمع ہوتا ہے، اور فیول ختم ہو جائے تو ہوا فیول سسٹم میں جا سکتی ہے۔ ریزرو بچا ہو تو فیول بھر لیں۔
اپنے لوڈ پر ڈیزل کی کھپت کہاں سے ملے گی؟
اسی سیٹ کی مینوفیکچرر ڈیٹا شیٹ دیکھیں۔ اشتہار میں نہ ہو تو سپلائر سے مانگ لیں۔
ڈیٹا شیٹ میں عموماً مقررہ لوڈ لیولز پر کھپت لکھی ہوتی ہے، جیسے ریٹنگ کا 50، 75 اور 100 فیصد۔ نیم پلیٹ ریٹنگ کو نہیں، اپنے اصل لوڈ کے سب سے قریب والا لیول لیں۔ آدھی ریٹنگ پر چلنے والا سیٹ پوری ریٹنگ والے سے کم ڈیزل جلاتا ہے، مگر نصف نہیں، کیونکہ کم لوڈ پر بھی انجن فیول جلاتا رہتا ہے۔
ڈیٹا شیٹ کے اعداد ٹیسٹ کی شرائط پر مبنی ہوتے ہیں۔ حقیقی کھپت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے پہلی شفٹوں کی اصل کھپت اپنے اندازے سے ملائیں اور منصوبہ ٹھیک کر لیں۔
اصل لوڈ معلوم کرنے کے لیے وہ سب جمع کریں جو ایک ہی وقت میں چلے گا۔ سائزنگ کا طریقہ الگ گائیڈ میں ہے۔
سپلائر سے پوچھنے کی باتیں:
- کیا آپ اسی ماڈل کی ڈیٹا شیٹ بھیج سکتے ہیں؟
- میرے اصل لوڈ کے سب سے قریب کون سا لوڈ لیول ہے، اور یہ اعداد پرائم ریٹنگ کے ہیں یا اسٹینڈ بائی کے (دیکھیں پرائم، اسٹینڈ بائی اور کنٹینیوس ریٹنگ)؟
- بلٹ اِن ٹینک کتنا بڑا ہے اور اس میں سے کتنا قابلِ استعمال ہے؟
- انجن کو کس اسپیسیفکیشن کا فیول چاہیے؟
بلٹ اِن ٹینک، اضافی ٹینک یا ٹینکر: کام کے لیے کیا ٹھیک ہے؟
سائٹ کے لیے فیول ٹینکس اور فیول ٹینکرز جنریٹر سے الگ کرائے کی کیٹگریز ہیں۔ سپلائر پر منحصر ہے کہ سیٹ کے ساتھ ملیں گے یا الگ سے۔
| آپشن | کس کے لیے بہتر | کس بات کا دھیان رکھیں |
|---|---|---|
| بلٹ اِن ٹینک | مختصر کام، ایک شفٹ یا چند دن، آسان رسائی | فیولنگ بار بار کرنی پڑتی ہے، ایک چکر چھوٹا تو سیٹ رک جاتا ہے |
| اضافی فیول ٹینکس | لمبے رن، دور دراز سائٹس، کم چکر | ہموار زمین چاہیے، اور جہاں سائٹ مانگے وہاں اسپل کنٹینمنٹ |
| ڈیزل ٹینکر کے چکر | بڑا سیٹ یا کئی سیٹ، سیٹ ہلائے بغیر فیولنگ | ڈیلیوری کا وقت آپ کی شفٹوں سے ملنا چاہیے؛ ٹینکر آپریٹر کے اپنے حفاظتی اصول بھی پوچھ لیں |
الٹی طرف سے سوچیں۔ پہلے طے کریں کہ فیولنگ کے دو چکروں کے بیچ کتنا وقفہ آپ کو قبول ہے، پھر دیکھیں کہ ٹینک ریزرو کے ساتھ اتنا وقفہ نکال لیتا ہے یا نہیں۔ نہ نکالے تو اسٹوریج بڑھائیں یا وقفہ کم کریں۔ اسپل کنٹینمنٹ، محفوظ فاصلے اور اسٹوریج کے اصول سائٹ کے لحاظ سے الگ ہوتے ہیں، اس لیے ٹینک آنے سے پہلے سائٹ مالک سے پوچھ لیں کہ کیا لاگو ہے۔
فیولنگ کا شیڈول کیسے بنائیں کہ سیٹ کبھی خشک نہ ہو؟
چلنے کے وقت کو شیڈول میں بدلیں، پھر اس پر مارجن رکھیں۔ اوپر کی مثال میں دن رات چلنے والے سیٹ کے پاس 30 قابلِ استعمال گھنٹے ہیں۔ فیولنگ پوائنٹ 18 گھنٹے پر رکھیں تو روزانہ ایک چکر لگتا ہے، فیول بچا رہتا ہے، اور ڈیلیوری دیر سے آئے تب بھی ریزرو تک پہنچنے سے پہلے کئی گھنٹے ہاتھ میں رہتے ہیں۔
- روزانہ کی شیٹ پر صرف چلنے کا وقت نہیں، فیولنگ کا وقت بھی لکھیں۔
- فیولنگ پوائنٹ ریزرو لائن سے خاصا پہلے رکھیں، ریزرو لائن پر نہیں۔
- ایک شخص مقرر کریں جو ہر شفٹ گیج دیکھے اور لیول درج کرے۔
- سب سے مشکل دن کا حساب لگائیں، یعنی سب سے زیادہ لوڈ والا دن، اوسط دن نہیں۔
- ڈیلیوری لیٹ ہو سکتی ہو تو اتنا فیول رکھیں کہ ایک چھوٹ جانے والا چکر نکل جائے۔
کرائے کی شرائط میں لکھوائیں کہ فیول کون دے گا، کرایہ دار یا سپلائر۔ یہ بھی طے کریں کہ حوالگی پر لیول کیسے ناپا جائے گا اور سیٹ واپسی پر بھرا ہوا دینا ہے یا جیسا ملا تھا ویسا۔ یہ سپلائر کے لحاظ سے بدلتا ہے، اس لیے تحریری لیں۔
رات کے کام میں لائٹس اور اوزار سب ساتھ چل سکتے ہیں؛ اس پہلو کے لیے رات کی روشنی کی گائیڈ دیکھیں۔
اصل کھپت کیسے جانچیں؟
سادہ فیول لاگ رکھیں، ہر فیولنگ پر ایک لائن: تاریخ، آور میٹر ریڈنگ، ڈالے گئے لیٹر اور ڈالنے والے کا نام۔ ہر بار ٹینک ایک ہی نشان تک بھریں۔ پھر یہ اصول لگائیں:
اصل کھپت فی گھنٹہ ≈ ڈالے گئے لیٹر ÷ پچھلی فیولنگ کے بعد چلنے کے گھنٹے۔
مثال کے طور پر عملہ 12 گھنٹے چلنے کے بعد 300 لیٹر ڈالتا ہے تو سیٹ نے تقریباً 25 لیٹر فی گھنٹہ استعمال کیا۔ یہ ڈیٹا شیٹ سے بہت دور ہو تو منصوبہ اپنی ناپی ہوئی کھپت پر بدل دیں۔ دو فیولنگز کے بیچ اچانک چھلانگ لیکیج، چوری یا خرابی کی پہلی نشانی بھی ہو سکتی ہے۔
فیولنگ محفوظ طریقے سے کیسے کریں؟
سپلائر اور سائٹ دونوں کے اصول مانیں۔ عمومی طریقہ:
- فیول ڈالنے سے پہلے انجن بند کریں اور ٹھنڈا ہونے دیں۔ گرم انجن اور ایگزاسٹ کی سطحیں گرا ہوا فیول بھڑکا سکتی ہیں۔
- آس پاس سگریٹ نوشی نہیں اور کھلی آگ نہیں۔
- فنل یا مناسب نوزل استعمال کریں اور ٹینک اوور فل نہ کریں۔ گرم ہونے پر فیول پھیلتا ہے، اس لیے ٹینک میں تھوڑی جگہ چھوڑیں۔
- گرا ہوا فیول اسی وقت صاف کریں، اور کپڑا سائٹ کے تقاضے کے مطابق ٹھکانے لگائیں۔
- آگ بجھانے کا آلہ قریب رکھیں اور یقینی بنائیں کہ فیول ڈالنے والے کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے۔
- ڈھکن بند کریں اور ڈالی گئی مقدار لکھ لیں۔
نوٹ. آگ اور فیول اسٹوریج کے تقاضے سائٹ اور پروجیکٹ کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ پہلی ڈیلیوری سے پہلے سائٹ مالک یا سیفٹی آفیسر سے پوچھ لیں کہ کیا لاگو ہے۔
ڈیزل کو پانی، مٹی اور چوری سے کیسے بچائیں؟
ذخیرے میں ڈیزل پانی اور مٹی پکڑ سکتا ہے۔ دن اور رات کے درجۂ حرارت کے فرق سے آدھے خالی ٹینک کے اندر نمی جمتی ہے، جس سے پانی بڑھتا ہے۔
- ٹینک بند رکھیں، اور ڈھکن اور فِلر پوائنٹ صاف رکھیں۔
- ٹینک کو ہفتوں آدھا خالی نہ چھوڑیں۔
- سپلائر سے انجن کے لیے درکار فیول اسپیسیفکیشن پوچھیں اور صرف وہی استعمال کریں۔
- کھلے ڈرموں یا نامعلوم ذرائع سے فیول نہ بھریں۔
- جہاں چوری کا خطرہ ہو وہاں ڈھکن پر تالا لگائیں، اور خاموش وقفوں سے پہلے اور بعد میں لیول دیکھیں۔
کم لوڈ پر دیر تک چلانے سے کیا ہوتا ہے؟
جو جنریٹر بہت کم لوڈ پر لمبے وقت تک چلتا رہے، اس کے انجن اور ایگزاسٹ میں ڈپازٹس جم سکتے ہیں۔ اسے عموماً ویٹ اسٹیکنگ کہتے ہیں۔ اس سے انجن ٹھیک نہیں چلتا اور پرزے گھستے ہیں۔
حل یہ ہے کہ سیٹ کو لوڈ کے مطابق چنیں۔ بڑا سیٹ زیادہ تر وقت تھوڑا لوڈ اٹھائے گا تو سپلائر سے پوچھیں کہ کیا چھوٹا سیٹ بہتر رہے گا۔ لوڈ دن میں کم اور کبھی کبھی زیادہ ہو تو پوچھیں کہ کیا دو چھوٹے سیٹ ساتھ چل سکتے ہیں؛ اس کے لیے ایسے سیٹ اور کنٹرولز چاہییں جو متوازی چلنے کے لیے بنے ہوں، دیکھیں پیرالیلنگ۔ بکنگ سے پہلے مزید سوالات کے لیے جنریٹر کرائے پر لینے کی گائیڈ دیکھیں۔
مَعِدّة (Maedah) پر یہ سب کیسے کریں
فیول کا منصوبہ اپنی درخواست میں لکھیں:
- جنریٹر، وہ لوڈ جو وہ اٹھائے گا اور روزانہ کتنے گھنٹے چلے گا۔
- اضافی ٹینک چاہیے یا ٹینکر، اور سائٹ کی رسائی اور زمین کیسی ہے۔
- شہر، نقشے پر سائٹ اور تاریخیں۔
- فیول کون دے گا، اور اسے کیسے ناپا اور واپس کیا جائے گا۔
پہلے مہمان بن کر جنریٹرز بھی دیکھ سکتے ہیں۔ سربمہر کوٹیشنز ساتھ ساتھ آتی ہیں: ٹینک کی گنجائش اور فیول کی شرائط ملائیں، اور قبول کرنے سے پہلے چیٹ میں پوچھ لیں۔ قیمت اور ادائیگی آپ سپلائر سے براہِ راست طے کرتے ہیں۔






